گواہی

 
 میں گواہ بناتی ہوں اللہ کو اس کے فرشتوں اور اس کی تمام مخلوق کو اور آپ لوگوں کو کہ میں حضرت محمد مصطفی خاتم النبیین ﷺ مختار و مجتبیٰ برگزیدہ خلائق و موجودات ﷺ پر ایمان رکھتی ہوں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ خاتم النبیین ﷺ کو تمام لوگوں پر بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ۔ آپ خاتم النبیین ﷺ ایک روشن شمع ہیں ۔ آپ خاتم النبیین ﷺ اللہ کے حکم سے اللہ تعالیٰ کی دعوت دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ خاتم النبیین ﷺ پر جو کچھ اتار ا، آپ خاتم النبیین ﷺ نے اس کی تبلیغ کی ۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی امانت کو آپ خاتم النبیین ﷺ نے ادا کیا ۔ آپ خاتم النبیین ﷺ نے حجتہ الوداع آخری حج میں تمام حاضرین کے سامنے خطبہ دیا ۔ آپ خاتم النبیین ﷺنے نصیحت کی ، ڈرایا ، دھمکایا ، خوشخبری دی ، وعدہ وعید فرمایا۔ آپ خاتم النبیین ﷺ کی نصیحت کسی خاص کے لیے نہ تھی ۔ یہ سب بحکم واحد وصمد تھا ۔ پھر آپ خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا دیکھو کیا میں نے تبلیغ نہ کر دی ؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ خاتم النبیین ﷺ نے تبلیغ فرما دی اور سب کچھ لوگوں کو پہنچا
دیا ۔ آپ خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا ” اے اللہ تو گواہ رہنا ـ ‘‘ ۔ِ 

  تو میں آپ سب کو گواہ کرتی ہوں کہ حضرت محمد خاتم النبیین ﷺ جو عقائد و احکام لائے ہیں میں ان تمام پر ایمان لائی ، میں مومن ہوں ، احکام نبوی ﷺ میں سے جن کو جان سکی اور سمجھ سکی اور جن کو نہ جان سکی میں سب پر ایمان لائی ہوں اور مجھے ان میں نہ کسی قسم کا شک ہے نہ شبہ ۔ میں ایمان رکھتی ہوں کہ وقت مقرر پر موت حق ہے ۔ میں ایمان رکھتی ہوں کہ قبر میں منکر نکیر کے سوال حق ہیں ۔ اجسام کا قبروں سے جی کر اٹھنا حق ہے ۔ اعمال ناموں کا اڑ اڑ کر ہاتھوں میں آجانا حق ہے ۔ بعض لوگوں کا جنت اور بعض کا دوزخ میں جانا حق ہے ۔ بروز قیامت بعض لوگوں پر غم نہ ہونا اور بعض کا کرب میں مبتلا ہونا حق ہے ۔ ’’ارحم الرحمین ‘‘ کا سب کی شفاعتوں کے بعد بعض کو دوزخ سے نکالنا بھی حق ہے ۔ مومنین اور موحدین کا جنت میں دائم نعمتوں میں ابد تک رہنا بھی حق ہے اور یہ کہ دوزخیوں کا ابد تک دوزخ میں رہنا بھی حق ہے ۔ ہمارے پاس کتب آسمانی اور انبیاء کرام سے جو کچھ پہنچا ہے وہ حق ہے۔ 


 یہ میری شہادت ہے ۔ میرے نفس پر ۔ یہ میری امانت ہے جس کے پاس یہ امانت پہنچے اگر اس سے کوئی سوال کرے تو وہ اس شہادت کو ظاہر کر دے کہ میں نے یہ شہادت دی تھی ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمارے اس ایمان سے نفع بخشے ۔ اور اِس دار فانی سے رخصت کے بعد اُس دنیا میں بھی ہمیں اس ایمان سے فائدہ حاصل ہو (آمین یا رب العالمین )۔ 


   اے میرے احباب و جماعت کے ارکان اللہ تم سب سے راضی ہو ، میں تم کو اپنے عقیدے پر گواہ کرتی ہوں کہ میں اللہ کو ، اس کے فرشتوں کو اور تمام مومنین کو اور جو سنیں یا پڑھیں ان کو ، اپنے عقیدے پر کہ اللہ ایک ہے ، الوہیت میں اس کا کوئی ثانی نہیں ، وہ بیوی بچوں سے پاک ہے ، منزہ ہے اور سب کا مالک ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ حقیقی بادشاہ ہے ،اس کا کوئی وزیر نہیں ،اس کو کوئی تدبیر سکھانے والا نہیں ۔ وہ کسی موجد کا محتاج نہیں ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ تمام چیزیں اس کی محتاج ہیں ۔ وہ جب چاہے اپنے عرش پر ( مستوی)جلوہ گر ہو سکتا ہے ۔ اس استوا سے اللہ کی جو بھی مراد ہو میں اس پر ایمان رکھتی ہوں ۔ دنیا بھی اسی کی ہے او ر آخرت بھی اسی کی ہے ۔ عرش اور ماسوائے عرش اسی سے قائم ہے ۔ اول و آخر سب اسی کا ہے ۔ زمانہ اس کو محدود نہیں کر سکتا ، مکان اس کو بلند نہیں کر سکتا ۔ وہ اس دم بھی تھا جب مکان نہ تھا ۔ وہ جیسا تھا ویسا ہی رہا اور ویسا ہی رہے گا ۔ مکان اور متمکن دونوں کو اس نے پیدافرمایا ، زمانے کو بھی اسی نے پیدا کیا ۔ وہ ایک ہے ، زندہ ہے ، اسے حفاظت ِمخلوق دشوار نہیں ، اس کی کوئی صفت ایسی نہیں ہے جو پہلے نہ تھی ، اللہ تعالیٰ اس سے اعلیٰ ہے کہ حوادث اس میں حلول کریں ، ’’وہ قیم ہے ‘‘اسی پر سب کے قیام کا دارومدار ہے ، وہ کبھی نہیں سوتا وہ’’ قہار ‘‘ ہے ۔ اس کا کوئی مثل نہیں ۔ اس نے عرش پیدا کیا اور ’’ استوا‘‘ کو سلطنت کی حد بنایا ۔ اس نے کرسی پیدا کی ۔ پست زمین اور بلند آسمان سے اس کو وسیع تر بنایا ۔ اس نے ’’قلم ‘‘کو پیدا کیااور روز اول سے قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اپنے علم کے مطابق قلم سے لکھوایا ۔ اس نے بغیر کسی سابقہ نمونے کے عالم کو پیدا کیا ۔ مخلوقات کو پیدا کیا ۔ اس نے ارواح کو اجسام میں امین بنا کر اتارا اور اجسام کو جس میں روح اتری ہے ، اپنا خلیفہ بنایا ۔ پھر آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ۔ اس کو اپنی قدرت سے انسان کا مطیع فرما دیا ۔ سب کچھ اسی نے پیدا کیا ہے ۔ اس کو کسی کی حاجت نہیں ہے ۔ لٰہذا وہی اول ہے ، وہی آخر ہے ، وہی ظاہر ہے ، وہی باطن ہے ، وہ ہر شے پر قادر ہے ، اس نے اپنے علم سے سب کا احاطہ کیا ہوا ہے ۔ وہ تمام مخلوقات اور اشیاء کے عدد سے واقف ہے ۔ وہ آنکھوں کی خیانت اور سینے میں چھپے ہوئے رازوں سے واقف ہے ۔ وہ لطیف و خبیر ہے ۔ اشیاء سے پہلے بھی ان کو جانتا تھا ۔ پھر اپنے علم کے موافق ان کو پیدا کیا اور اپنے علم کے موافق تمام اشیاء پر سکونت کرتا ہے ۔ وہ تمام کلیات کوجانتا ہے اس لیے کہ وہ تمام جزیات کا علم رکھتا ہے اور اس مسئلے پر تمام عقل سلیم اور رائے صحیح رکھنے والوں کا اتفاق و اجماع ہے ۔